ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لالو یادو نے جیل سے جذباتی خط لکھا،کہا،اس بارکے انتخابات میں سب کچھ داؤ پر

لالو یادو نے جیل سے جذباتی خط لکھا،کہا،اس بارکے انتخابات میں سب کچھ داؤ پر

Wed, 10 Apr 2019 21:36:48    S.O. News Service

نئی دہلی ،10اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چارہ گھوٹالے میں جیل میں بند آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔لالو یادو نے صحت کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے ضمانت مانگی تھی، لیکن سی بی آئی نے ان کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔سی بی آئی نے کہا تھا کہ لالو یادو لوک سبھا انتخابات کے لئے ضمانت مانگ رہے ہیں۔ضمانت عرضی مسترد ہونے کے بعد لالو یادو نے ٹویٹ کر کہا کہ 44 برسوں میں پہلا انتخاب ہے، جس میں آپ کے درمیان نہیں ہوں۔انتخابی جشن میں آپ تمام لوگوں کے درشن نہ ہونے کا افسوس ہے۔آپ کی کمی محسوس ہورہی ہے لہٰذا جیل سے ہی آپ تمام لوگوں کے نام خط لکھا ہے۔امید ہے آپ اسے پڑھیں گے اور جمہوریت اور آئین کوبچائیں گے۔ لالو یادو نے اس میں لکھا ہے اس وقت جب بہار ایک نئی کہانی لکھنے جا رہا ہے۔جمہوریت کا جشن چل رہا ہے۔یہاں رانچی کے اسپتال میں اکیلے بیٹھ کر میں سوچ رہا ہوں کہ کیا اس کی طاقتیں مجھے قید کرکے بہار میں پر کسی سازش کی کہانی لکھنے میں کامیاب ہو پائیں گی۔میرے رہتے بہار والوں کے ساتھ پھر سے میں دھوکہ نہیں ہونے دوں گا۔میں قید میں ہوں میرے خیال وہیں ہیں میں اپنے خیالات کو آپ سے شیئر کر رہا ہوں، کیونکہ ایک دوسرے سے خیالات کا اشتراک کرکے ہی ہم ان بانٹنے والی طاقتوں سے لڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھاکہ اس بار الیکشن میں سب کچھ داؤ پر لگا ہے۔اس بار کا الیکشن پہلے جیسا نہیں ہے۔ملک، معاشرے، لالو یعنی خوش برابری سے سر اٹھا کر چلنے کا جذبہ دینے والا اور عزت اور وقار تمام داؤ پر لگا ہے۔جنگ آر پار کی ہے۔میرے گلے میں حکومت اور چالبازوں کا پھندہ پھنسا ہوا ہے۔عمر کے ساتھ جسم ساتھ نہیں دے رہامگر آن ،بان ،شان اور آبرو کی لڑائی میں لالو کی للکار ہمیشہ رہے گی۔لالو پرساد یادو کے لئے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس لیے بھی سب سے بڑا جھٹکا ہے کیونکہ 1977 کے بعد ایسا پہلی بار ہو گا کہ لالو پرساد یادو کسی بھی انتخابی مہم میں شامل نہیں ہوں گے۔بتا دیں کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات اور 2015 میں بہار اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کے لئے لالو پرساد نے تشہیرکی تھی،حالانکہ اس وقت بھی وہ جیل سے ضمانت پر باہر آئے تھے۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بہت سی چیزیں نئی ہوں گی. مثلا 1977 کے بعد جب لالو پرساد یادو پہلی بار انتخابات لڑے تھے اور سارن سے رہنما کے طور پر منتخب ہوئے تھے، انتخابی مہم نہیں کر پائیں گے۔چارہ گھوٹالہ میں پھنسے ہونے کی وجہ سے انہیں نااہل ٹھہرا دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ الیکشن نہیں لڑ سکے تھے، مگر وہ 2014 کے انتخابات اور 15 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کی تشہیر میں شامل ہوئے تھے۔


Share: